26 مئی, 2020

    تاش کے گھر بنائے بیٹھی ہوں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    8 دسمبر, 2019

    کہاں سے ٹوٹی ہوئی ہوں مَیں

    ایک غزل از نجمہ کھوسہ
    22 مئی, 2020

    تو بتا اے دلِ بیتاب کہاں آتے ہیں

    سعید خان کی اردو غزل
    20 مئی, 2020

    جانے کس دشت کا آزار ہو کل ساتھ مرے

    سعید خان کی اردو غزل
    27 جون, 2020

    ہے میرے لوہو رونے کا آثار سا ہنوز

    میر تقی میر کی ایک غزل
    4 جنوری, 2020

    جب بھی یہ دِل اُداس ہوتا ہے

    گلزار کی ایک اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    یہ خوش نظری خوش نظر آنے

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    18 نومبر, 2020

    آنکھ میں رَتجگا تو ہے ہی نہیں

    ایک اردو غزل از شبیرنازش
    7 مئی, 2022

    بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں

    راکب مختار کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    لائق نہیں تمھیں کہ ہمیں ناسزا کہو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 اپریل, 2020

    یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا

    جواد شیخ کی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2025

    یہ کس ترنگ میں ہم نے مکان بیچ دیا

    احمد مشتاق کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    کئی برسوں جگر کا ہی لہو اپنا پیا ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    31 دسمبر, 2021

    اسی پہ آنکھ ٹھہرتی ہے پیارا لگتا ہے

    ایک اردو غزل از شبیرنازش
    7 دسمبر, 2025

    تیر کس کی کماں سے نکلا ہے

    کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button