18 دسمبر, 2019

    گھِر کے آخر آج برسی ہے گھٹا برسات کی

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    8 اپریل, 2020

    کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے

    ایک اردو غزل از ادریس بابر
    28 جون, 2020

    ہم سے دیکھا کہ محبت نے ادا کیا کیا کی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    20 نومبر, 2019

    چاند نکلے کسی جانب

    ایک اردو غزل از فیض احمد فیض
    9 جون, 2020

    فرار

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    29 نومبر, 2019

    کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

    ایک اردو غزل از نوشی گیلانی
    26 دسمبر, 2024

    مری شکست ترا امتحاں نہ بن جائے

    قیصرالجعفری کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2020

    چاندنی بن کے جب اُس چاند کا سایہ نکلے

    ناہید ورک کی اردو غزل
    20 نومبر, 2019

    تیری خوشی کے واسطے میں بے وفا ہوا

    ایک عمدہ غزل از سید عدید
    16 نومبر, 2025

    گِلہ کرنے پہ بھی مَیں

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    7 مئی, 2020

    سینوں میں تپش ہے کبھی شورش ہے سروں میں

    خورشید رضوی کی ایک اردو غزل
    24 دسمبر, 2025

    بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہے

    جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل
    22 اکتوبر, 2019

    دھوم تھی اپنی پارسائی کی

    الطاف حسین حالی کی اردو غزل
    17 اپریل, 2026

    جو لکھنے کو قلم رکھنا

    از پروفیسر اویس خالد
    30 دسمبر, 2019

    بس یہی کچھ ہے معجزہ مرے پاس

    ایک اردو غزل ندیم بھابھہ

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button