اردو غزلیات
غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔
-

فراق آنکھ لگنے کی جا ہی نہیں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

جور کیا کیا جفائیں کیا کیا ہیں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

اگرچہ اب کے ہم اے ابر خشک مژگاں ہیں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

اے مجھ سے تجھ کو سو ملے تجھ سا نہ پایا ایک میں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

باغ گو سبز ہوا اب سر گلزار کہاں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

اتفاق ایسا ہے کڑھتے ہی سدا رہتے ہیں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

جب سے ہے اس کی ابروے خمدار درمیاں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

دل کو لکھوں ہوں آہ وہ کیا مدعا لکھوں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

یوں قیدیوں سے کب تئیں ہم تنگ تر رہیں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

گو جان کر تجھے سب تعبیر کر رہے ہیں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

کوچے میں تیرے میر کا مطلق اثر نہیں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

بیگانہ وضع برسوں اس شہر میں رہا ہوں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

گر کوئی اعمیٰ کہے کچھ پر کہاں وہ تو کہاں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

محمل نشیں ہیں کتنے خدام یار میں یاں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

امید دل دہی تھی جن سے وے آزار کرتے ہیں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

آپ اس جنس کے ہیں ہم بھی خریداروں میں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

کرتے ہیں جوکہ جی میں ٹھانے ہیں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

کاشکے دل دو تو ہوتے عشق میں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
میر تقی میر کی ایک غزل
-

عشق میں جی کو صبر و تاب کہاں
میر تقی میر کی ایک غزل
