دلاور فگارمزاحیہ شاعری

برخوردار

دلاور فگار کی مزاحیہ شاعری

برخوردار

کھڑے تھے ایک برخوردار کل نزدیک ریگل کے
میں سمجھا یہ کوئی سر سید و اقبال ہیں کل کے

کہا میں نے تمہارا نام، بولے سرفراز اختر
کہا کالج میں پڑھتے ہو، تو فرمانے لگے یس سر

کہا میں نے کہ آئندہ بھی پڑھنے کا ارادہ ہے
فرمایا کہ جو کچھ پڑھ لیا وہ بھی زیادہ ہے

نہ میں پیچھے کو بڑھتا ہوں نہ میں آگے کو بڑھتا ہوں
فقط دس سال سے صرف ایک ہی درجہ میں پڑھتا ہوں

میری صورت ہے نورانی، میری فطرت ہے رومانی
میں پروانہ صبیحہؔ کا، صبیحہ میری پروانی

دلاور فگار

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button