اردو غزلیاتسپنا مولچندانیشعر و شاعری

آگے کی ٹھوکروں سے بچا کر چلا گیا

سپنا مولچندانی کی ایک اردو غزل

آگے کی ٹھوکروں سے بچا کر چلا گیا
اک شخص میرے رستے میں آ کر چلا گیا

وہ درد کے دوا کے دلوں کے سوال پر
غالبؔ کا ایک شعر سنا کر چلا گیا

جس کو کبھی بھلا نہ سکی ایک پل بھی میں
وہ مجھ کو ایک پل میں بھلا کر چلا گیا

اس نے سفر میں ساتھ تو میرا نہیں دیا
مجھ کو مگر وہ رستہ دکھا کر چلا گیا

دل چاہتا ہے اس کو ہی مرہم کے طور پر
جو شخص دل پہ زخم لگا کر چلا گیا

سوچو ذرا کہ کتنا دکھا ہوگا اس کا دل
ہنستے ہوئے جو اشک چھپا کر چلا گیا

سپنا مولچندانی

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button