آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریوصال عباسی

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

وصال عباسی کی ایک اردو غزل

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے
تو کہ ہے مجھ میں کہاں دیکھنا ہے

زندگی ختم نہیں ہے یہیں پر
اور ابھی ایک جہاں دیکھنا ہے

کسی حسرت کو جگا رات کٹے
کس دم میں ہے یہ جاں دیکھنا ہے

تیری صورت پہ رکھے کتنے نقاب
ایک دن کر کے عیاں دیکھنا ہے

لے گیا وقت جنھیں آنکھوں سے
کتنے باقی ہیں نشاں دیکھنا ہے

جبر کے دور میں حق کی خاطر
کون کھولے گا زباں دیکھنا ہے

جرم اپنا نہ عدالت نہ سزا
کیا تمارا ہے بیاں دیکھنا ہے

اس تبسم پہ میں قربان مگر
اس میں کیا راز نہاں دیکھنا ہے

دیکھا ہے عشق ابھی دید طلب
سر رکھا نوک سناں دیکھنا ہے

میں نہیں کر سکا جو بات وصال
اس کے ہونے کا گماں دیکھنا ہے

وصال عباسی

post bar salamurdu

وصال عباسی

نام ظاہرالرحمن - تخلص وصال عباسی - تحصیل لورہ - ضلع ایبٹ آباد کے پی کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button