وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے
تو کہ ہے مجھ میں کہاں دیکھنا ہے
زندگی ختم نہیں ہے یہیں پر
اور ابھی ایک جہاں دیکھنا ہے
کسی حسرت کو جگا رات کٹے
کس دم میں ہے یہ جاں دیکھنا ہے
تیری صورت پہ رکھے کتنے نقاب
ایک دن کر کے عیاں دیکھنا ہے
لے گیا وقت جنھیں آنکھوں سے
کتنے باقی ہیں نشاں دیکھنا ہے
جبر کے دور میں حق کی خاطر
کون کھولے گا زباں دیکھنا ہے
جرم اپنا نہ عدالت نہ سزا
کیا تمارا ہے بیاں دیکھنا ہے
اس تبسم پہ میں قربان مگر
اس میں کیا راز نہاں دیکھنا ہے
دیکھا ہے عشق ابھی دید طلب
سر رکھا نوک سناں دیکھنا ہے
میں نہیں کر سکا جو بات وصال
اس کے ہونے کا گماں دیکھنا ہے
وصال عباسی








