ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں
لوگ جینا محال کرتے ہیں
پھول باتیں فضول لگتی ہیں
خار لہجے کمال کرتے ہیں
راستوں میں بچھاتے ہیں کانٹے
میرا کتنا خیال کرتے ہیں
روتے رہتے ہیں خواب آنکھوں میں
جانے کس کا ملال کرتے ہیں
ہنستے رہتے ہیں ہم طمانت سے
جب بھی دکھ سے وصال کرتے ہیں
وصال عباسی








