ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے
تو نہیں تیرا وقت بولتا ہے
متواتر مرے خلاف کوٸ
میرے ہی زیرِ دست بولتا ہے
اک تصادم خیالُ خواب کا ہے
اک تعلق کرخت بولتا ہے
خرد اسباب ڈھونڈنے میں مگن
پار دریا کے بخت بولتا ہے
ہجر دینے لگا ہے پھر دستک
کان میں خواب ِ رخت بو لتا ہے
کہہ رہی ہے چمک یہ آنکھوں کی
خواب کوٸ الست بولتا ہے
کیا ہو تو ضیع عذر اب کہ وصال
چپ ہے بلبل درخت بولتا ہے
وصال عباسی







