"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی کاوش
تحریر : غنی الرحمٰن انجم
بدقسمتی سے ہمارے ہاں ہر آنے والا نیا سرکاری مالی سال کسی خوشخبری کے بجائے معاشی گرانی اور تلخیوں کی نئی سوغات ہی لے کر آتا ہے، تاہم اہل ادب اور اربابِ ذوق کی خوش قسمتی دیکھیٸے کہ اس بار امین جالندھری صاحب کی طرف سے نئے مالی سال کے آغاز پر ایک بیش قیمت علمی تحفہ سامنے آیا ہے۔ شہرِ حیدرآباد کے تابناک ادبی افق پر گزشتہ تین دہائیوں کی علمی و ادبی محافل کی رنگین روداد اور اخباری کالموں پر مشتمل "شہر نامہ سوم” موجودہ مشکل اور تلخ حالات میں اپنے قارئین کے ادبی ذوق کی تسکین کے ساتھ ساتھ ان کے دکھوں اور تکالیف کا مداوا کرنے آ گیا ہے۔
اس کتاب کا رنگین ٹائٹل، شہر کی گہما گہمی، عمارتوں اور ان کی کھڑکیوں سے جھانکتی پُراُمید آنکھوں میں روشن شمع کی خوبصورت منظرکشی کتاب کے نفس مضمون کے عین مطابق ہے۔ مطبوعاتِ رابطہ کے تحت شائع ہونے والی یہ کتاب 192 صفحات پر مشتمل ہے، جس کا انتساب حضرت امیر خسرو رح کے خوبصورت کلام "چھاپ تلک سب چھینی رے” کے ساتھ ان کے نام کیا گیا ہے۔
کتاب کے مندرجات جہاں فکر و فن کا شاہکار ہیں، وہیں صفحہ نمبر 21 پر "سر نامہ” کے عنوان سے امین جالندھری کی لکھی تحریر آج کے دور کا المیہ، مقدمہ اور چارج شیٹ ہے، جس سے انکار قطعی ممکن نہیں۔ تاہم ایسے نازک دور میں یہ سب لکھنا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں، کیونکہ:
"یہی کہا تھا میری آنکھ دیکھ سکتی ہے
کہ مجھ پہ ٹوٹ پڑا سارا شہر نابینا”
یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے جناب امین جالندھری صاحب کی مسلسل محبت، شفقت اور توجہ حاصل ہے۔ اس کی بدولت انہوں نے بنا دیکھے اور بغیر ملے، خالصتاً ادبی و قلمی رشتے کی بنیاد پر مجھے پہلے "شہر نامہ دوم” اور اب "شہر نامہ سوم” کی صورت میں قیمتی خیالات کے ذخیرے اور تاریخی ادبی ورثے سے نوازا۔ میں ان کی اس بے لوث محبت اور عنایت کے لیے ان کا تہہِ دل سے ممنون و متشکر ہوں۔
ایسے حالات میں جب معاشی گرانی کے سبب کتاب کی اشاعت روز بروز دشوار سے دشوار تر ہوتی جا رہی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر کتاب کی پذیرائی اور فروخت خود ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، ایسے میں کسی شخص کا ذاتی خلوص سے ایک ضخیم کتاب شائع کرنا اور پھر اسے اہل قلم کو تحفتاً ارسال کرنا، یقیناً ایک ایسے ہی باظرف انسان کا کام ہو سکتا ہے جو علم و ادب کی ترویج کو نہ صرف اپنا اوڑھنا بچھونا بنا چکا ہو، بلکہ اسے ایک قومی و علمی فریضہ اور صدقۂ جاریہ سمجھ کر سر انجام دینے کو اپنے لیے باعثِ فخر گردانتا ہو۔
اگرچہ امین جالندھری صاحب یہ تمام علمی کاوشیں ادب سے بے لوث محبت، کسی بھی لالچ، طمع اور ستائش کی تمنا سے بے نیاز ہو کر محض اپنے باطنی اطمینان اور قلبی تسکین کے لیے کر رہے ہیں، اور اسے ادب، ادیب یا قاری پر احسان ہرگز نہیں سمجھتے؛ تاہم ہمیں بحیثیتِ پاکستانی ادیب اور خصوصاً حیدرآباد کے ہر خاص و عام کو ان کے اس علمی احسان کا اعتراف کرنا ہوگا کہ انہوں نے حیدرآباد اور اس کے ادبی منظر نامے کو نہ صرف پاکستان کے دور دراز علاقوں تک متعارف کروایا، بلکہ اسے دنیا کے ہر اس گوشے تک پہنچا دیا ہے جہاں اردو بولی، پڑھی اور سمجھی جاتی ہے۔
"شہر نامہ سوم” کی عالمگیر پذیرائی اور ادبی وقعت کا اندازہ ان پرمغز تبصروں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو دنیا کے مختلف خطوں سے اہل دانش کی طرف سے اس پر لکھے گئے ہیں۔
شہرِ حیدرآباد کے ادبی عکس کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر شبیر احمد قادری (فیصل آباد) لکھتے ہیں۔۔۔۔
"مجھے خوشی ہے کہ میں نے حیدرآباد کو امین جالندھری کے قلم کی آنکھ سے دیکھا ہے اور قلب اوراق کی دھڑکن سے محسوس کیا ہے۔ کسی ان دیکھے شہر کو دیکھنے کی تمنا ہو تو صرف ادیب کی آنکھ سے دیکھنا چاہیے۔”
کتاب کے نثری اسلوب اور اس کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نجمہ منصور (سرگودھا) اپنے خیالات کا اظہار یوں فرماتی ہیں۔۔۔
"شہر نامہ کا اسلوب روایتی اور جدید نثر کا ایک حسین امتزاج ہے۔ مجموعی طور پر شہر نامہ محض ایک رسالہ نہیں بلکہ اپنے دور کی ادبی، سماجی اور تہذیبی سرگرمیوں کی ایک زندہ دستاویز ہے۔”
کینیڈا کی سرزمین سے نامور ادیب حامد یزدانی (ٹورنٹو) "شہر نامہ سوم” پر اپنے تاثرات میں یوں رقم طراز ہیں۔۔۔
"ایک گلدستہ ہے ادب کے رنگارنگ پھولوں کا۔ ایک ایسا مرقع جس میں سنجیدگی اور شائستگی بچپن کی سہیلیوں کی طرح ہاتھ میں ہاتھ دیے چہل قدمی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ قدرتی طور پر توقیرِ حرفِ سخن کی گراں قدر امانت ان کے سپرد کی گئی تھی اور انہوں نے اس دولت کی حفاظت کا حق ادا کر دیا۔”
ہندوستان کی سرزمین سے سراج زیبائی (شیموگہ، کرناٹک) امین جالندھری صاحب کی علمی قابلیت کو سراہتے ہوئے لکھتے ہیں۔۔۔
"انہوں نے ادب کو کارآمد تحریریں دی ہیں۔ افسانہ نگاری کے حوالے سے بھی کائنات کی صداقت کو آئینے میں اتارنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی زبان نہایت شستہ و بلیغ ہے۔ میری خواہش ہے کہ امین جالندھری اسی طرح اردو کے متوالوں کی ادبی خدمات کو سامنے لائیں اور بڑی پابندی کے ساتھ حقیقت بیانی کا اہتمام کریں۔”
حاصلِ کلام یہ کہ "شہر نامہ سوم” محض ایک کتاب نہیں، بلکہ حیدرآباد کی ادبی تاریخ، تہذیبی اقدار اور زندہ تحریروں کا ایسا شاہکار ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ امین جالندھری صاحب کی یہ بے لوث علمی کاوش اردو ادب کا ایک گراں قدر سرمایہ ہے، جس پر وہ بلاشبہ مبارکباد اور تحسین کے مستحق ہیں۔
میں ان کی صحت، درازیِ عمر اور مزید ادبی کاوشوں کے لیے تہہِ دل سے دعا گو ہوں اور ان کے اس عظیم الشان تحفے پر ایک بار پھر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
غنی الحمٰن انجم








