- Advertisement -

مسلح افواج کے سربراہ

ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی اردو مزاحیہ تحاریر

مسلح افواج کے سربراہ

پیر پگاڑہ تو فرماتے ہیں جماعت اسلامی دراصل مسلم لیگ ہی کا اردو ترجمہ ہے ، بہر حال یہ فرق ہے کہ جماعت میں ایک امیر ہوتا ہے اور مسلم لیگ میں سبھی ہوتے ہیں، جماعت کے امیروں میں نمبر ایک مولانا مودودی ہیں، میاں طفیل محمد دو نمبر امیر تھے اور قاضی حسین احمد تیسرے درجے کے ہیں، قاضی حسین احمد اور میاں طفیل محمد صاحب کے مزاج میں وہی فرق ہے جو اسلامی طلبہ اور جماعت اسلامی میں ہے ، مولانا مودودی تو چھڑی ہاتھ میں یوں پکڑتے تھے جیسے قلم ہوں، میاں صاحب کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ قلم پکڑا ہے یا چھڑی جب کہ قاضی حسین احمد تو قلم کو یوں پکڑتے ہیں جیسے چھڑی پکڑی ہو، ہر امیر کے دور میں جماعت کی رفتار وہی ہی رہی جو امیر کے اپنے چلنے کی تھی۔۔۔۔۔۔۔میاں صاحب تو ایسے ہیں کہ جب تک بندہ رک نہ جائے ، پتہ نہیں چلتا وہ چل رہے ہیں، قاضی صاحب رکے بھی ہوں تو ہم سے تیز ہوتے ہیں، لگتا ہے وہ زمین کے اوپر نہیں چلتے زمین ان کے نیچے چلتی ہے ۔
میاں طفیل محمد صاحب اس عمر میں جس میں کسی بندے کو یہ خوشخبری دی جا سکتی ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی جنگ نہ ہو گی، وہ امارات میں ہی دوسرے نمبر پر نہیں آئے ، بچپن میں کسی لڑکے سے لڑائی ہو جاتی تو اس میں بھی دوسرے نمبر پر ہی آتے ، پہلے پٹھان کوٹ اور پینٹ کوٹ بھاتا تھا، ٹائی لگاتے پھر ایسے داڑھی رکھی کہ ٹائی لگاتے تو ناٹ، ناٹ ویزایبل ہوتی، پتلون بھی پہنتے تھے ، مگر بعد میں پہننا چھوڑ دی کہ پتلون سینے کے گرد ٹائٹ لگتی تھی، دوران گفتگو پنجابی کے لفظ یوں استعمال کرتے ہیں جیسے سیاست دان عوام کو استعمال کرتے ہیں، تقریر کر رہے ہوں تو وہ اردو بول رہے ہوتے ہیں اور لوگ پنجابی سن رہے ہوتے ہیں، ہر کام اصلاح کیلئے کرتے ہیں، حضرت داتا گنج بخش کی کتاب کشف المحجوب کا ترجمہ کیا، کہتے ہیں کہ نہ صرف ترجمہ کیا بلکہ اصلاح بھی کر دی۔
ایسے ٹھنڈے کہ گرمیوں میں بھی ان کے پاس چادر لے کر بیٹھنا پڑتا ہے ، وہ کام بھی اچھے طریقے سے کرتے ہیں جو کام صرف طریقے سے کئی جاتے ہیں، پہلے رس گلے چینی میں ڈبو کر کھاتے ، اب چینی بھی دھو کر کھاتے ہیں، وہ غلط وقت پر صحیح بات کرتے ہیں لیکن صحیح وقت پر غلط بات کرتے ہیں، البتہ وہ کسی کو اسلامی ذہن کا بندہ کہیں تو اس سے مراد جماعت اسلامی ذہن کا بندہ ہو گا۔
مولانا مودودی جماعت کو سیاست میں لائے ، قاضی حسین احمد سیاست کو جماعت میں لائے ، سیاست میں ان کی سوچ الگ ہے ، سوچ الگ نہ ہو تو خود الگ ہو جاتے ہیں، قاضی صاحب وہ وکیل ہیں جو خود عدالت میں کیس لڑتے ہیں جیسے عدالت پر مقدمہ چلا رہے ہوں، شروع ہی سے اس قدر تیز تھے ، کہ اسکول میں ان کی جو تاریخ پیدائش درج ہے ، اس سے دو سال قبل پیدا بھی ہو چکے تھے ، ان کے بزرگ کام کے قاضی تھے ، زیارت کاکا گاؤں مین ان کا خاندان گاؤں کا استاد تھا، ان کے سامنے سب کاکے تھے ، ان کے گھر کے ارد گرد دوسروں کے گھر یوں ہی تھے ، دیہاتی اسکول کے بچے استاد کے اردگرد بیٹھے ہوتے ہیں، تعلق اس خاندان سے جہاں نوجوانوں کے چہرے پر داڑھی نہ ہونا بے پردگی میں شمار ہوتا ہے 1970 میں جماعت کے نظم میں ضبط ہوئے ، وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے جماعت میں نہ آئے بلکہ اسلامی جمعیت طلبہ ان سے جماعت میں آئی۔
بچپن ہی سے جغرافئیے سے اس قدر لگاؤ تھا کہ کوئی پوچھتا بتاؤ فلاں ملک کہاں ہے ؟ تو جھٹ بتا دیتے ، جغرافئیے کی کتاب کے فلاں صفحے پر بچپن میں دنیا کا نقشہ یوں دیکھتے جیسے اپنا ناک نقشہ دیکھ رہے ہوں، پھر جغرافئیے کے استاد ہوئے اور جغرافئیے کے استاد کیلئے خگرافئیے سے اہم کوئی مضمون نہیں ہوتا ہے کیونکہ خغرافئیے کے نہ ہونے سے ہمیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر وہ استاد نہیں رہ سکتا، تو جوانی میں مشتاق احمد یوسفی صاحب کو بھی جغرافئیے کا اتنا شوق تھا، کہ ایک صاحب انہیں ادکارہ مسرت نزیر کی ہسٹری بتا رہے تھے تو یوسفی صاحب نے کہا قبلہ ہسٹری کو چھوڑ دیں، مجھے ان کا جغرافیہ بتائیں، خواتین کے معاملے میں قاضی صاحب کا رویہ اتنا سخت نہیں جتنا مونا عبدالستار نیازی صاحب کا ہے انہوں نے تو عورت سے شادی تک نہیں کی، بہر حال قاضی صاحب سے مس گائیڈ ڈمیزائل کا پوچھیں تو کہیں گے وہ میزائل جسے کسی مس نے گائیڈ کیا ہو، قاضی صاحب کا نشانہ اچھا ہے ۔
ایک بار نشانہ بازی کر رہے تھے ،ٹارگٹ پر جو تصویر تھی، کوئی نشانہ اسے نہ لگا تو احباب نے فورا وہاں سے وہ تصویر ہٹا کر ولی خان اور الطاف حسین کی تصویر رکھی تو نشانہ خود تیر پر آ لگا، رحمت الہی صاحب کا جماعت کا عہدہ چھوڑ نا ان کیلئے رحمت الہی بنا، قاضی وہ تھے ہی یوں میاں طفیل محمد صاحب کے طفیل جماعت کے میاں بھی بن گئے ۔
قاضی صاحب اپنے اور جاوید اقبال کے والد سے متاثر ہیں، نرگس پسند ہے اور کرگس ناپسند گرمی اور سردا بہت کھاتے ہیں، دوسروں کو سننے کا اس قدر شوق ہے کہ منظر بھی وہ پسند ہے جس میں کچھ سننے کو ہو، جیسے پرندوں کی چہچہاہٹ اور پانی کا شور، دیکھنے میں اس اپنے قد سے لمبے لگتے ہیں، سنتے ہوئے سر بلند اور کہتے ہوئے سر بلند رکھتے ہیں، پٹھان ہیں اور آپ کو پتہ ہے پٹھان کب پٹھان کی طرح ہوتا ہے ؟ جی ہاں جب غصے میں کیا کرتے ہیں، تو جناب غصے میں صرف غصہ کرتے ہیں، غصے میں ہوں تو سرخ رنگ ان کے چہرے کی طرح ہو جاتا ہے کرنٹ افئیرز پر بات کر رہے ہوں تو بات میں اور کچھ ہو نہ ہوم کرنٹ ضرور ہوتا ہے ، ہم زمانہ طالب علمی میں اونچی آواز میں بول بول کر سبق یاد کیا کرتے تھے ، وہ اس طرح سوچتے ہیں، تقریروں میں اقبال کے شعر اس قدر استعمال کرتے ہیں کہ لگتا یوم اقبال پر تقریر فرما رہے ہیں، لوگ کہتے ہیں وہ پردے کے بڑے حق میں ہیں، حالانکہ انہیں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں مخالفین کو ننگا کرتے ہم نے خود دیکھا ہے ، خود کے بے قرار برقرار رکھتے ہیں، ان کے ذمے لگائے گئے ، اس قدر متحرک کہ ایک جگہ بیٹھے ہوئے بھی ساکن نہیں ہوتے ، وہ آرام کر رہے ہوں یقین کر لیں، یہ سب اپنی مرضی سے نہیں ڈاکٹر کی مرضی سے کر رہے ہوں گے، رات گئے دن کا آغاز کرتے ہیں، اور اس وقت تک پہلا دن ختم نہیں کرتے ہیں جب تک اگلا دن شروع نہ کر لیں۔
پٹھان اپنی زبان نہیں بدلتے لیکن وہ ایرانیوں سے فارسی، عربوں سے عربی اہل مغرب سے انگریزی اہل خانہ سے پشتو ہم وطنوں سے اردو اور ہم جماعتوں سے اسی زبان میں بات کرتے ہیں جو وہ سمجھتے ہیں، انہیں بولنا تو کئی زبانوں میں آتا ہے ، مگر چپ رہنا کسی زبان میں نہیں آتا، سر ڈھانپنا ان کے نزدیک ستر ڈھانپنا بلکہ بہتر ڈھانپنا ہے ، لوگوں کے سر پر بال اگتے ہیں ان کے سر پر ٹوپیاں، ان کے نزدیک تو ٹنڈ کرانا سر سے ٹوپی اتارنا ہوتا ہے ، با ریش چہرے پر مسکراہٹ کھیلتی رہتی ہے ، اگر چہ کھیلنے کیلئے مسکراہٹ کے پاس کم ہی چہرہ بچا ہے ، لہجہ ایسا کہ جنرل دوستم کو بھی جنرل دوستم کہتے ہیں، قاضی حسین احمد مخالفوں کیلئے قاضی بھی ہیں، اور حسین بھی، انہوں نے ذاتی عدالتیں لگوائیں، پاسبان کی ان عدالتوں میں ان کی موجودگی ایسے ہی ضروری ہوتی ہے جیسے پنجابی فل ہٹ کرانے کیلئے سلطان راہی، اسی لئیے وہ پاسبان کے جلسے میں جا رہے ہوتے تو لگتا ہے شوٹنگ پر جا رہے ہیں، مجاہد آدمی ہیں، کار سے بھی یوں نکلتے ہیں جیسے مورچے سے نکل رہے ہوں، ہاتھ ملا رہے ہوں تو لگتا ہے ، ہتھ جوڑی کر رہے ہوں، چلتے یوں جیسے پیش قدمی کر رہے ہوں، بلاشبہ وہ پاکستان کی مصلی افواج کے سربراہ ہیں۔

ڈاکٹر محمد یونس بٹ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی اردو مزاحیہ تحاریر