آپ کا سلاماحمد ابصاراردو غزلیاتشعر و شاعری

تمہارے ہجر کے ماتم

احمد ابصار کی ایک اردو غزل

تمہارے ہجر کے ماتم کے واسطے نکلے
جگر کو چیر کے اشکوں کے قافلے نکلے

کِیا ہے بے رخی نے اس قدر نڈھال ہمیں
کہ تیری بزم سے ہم دل کو تھامتے نکلے

مرے جنازے کو کاندھا تو آکے دے جانا
میں چاہتا ہوں جنازہ تو شان سے نکلے

دل ان کے پاؤں میں رکھا کہ وہ نہ جائیں، پر
ستم شعار مرے دل کو روندتے نکلے

وہ مجھے سے ملنے تھے آئے، بنا ملے ہی گئے
یہی گماں ہے مجھے کیا وہ سوچتے نکلے؟؟

شدتِ درد بڑھی جتنی مرے سینے میں
اتنے ابصار مرے منہ سے قہقہے نکلے

احمد ابصار

post bar salamurdu

احمد ابصار

اصل نام غلام مہدی - قلمی نام احمد ابصار - تخلص ابصار - شہر لاڑکانہ - تاریخ پیدائش 5/4/2004

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button