اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

ترا غم ہر طرف چھایا ہوا ہے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

ترا غم ہر طرف چھایا ہوا ہے
یہ کیسا جال سا پھیلا ہوا ہے

خوشی ہے دے فریب زندگانی
کہ تجھ پر اعتبار آیا ہوا ہے

ازل سے ہے پریشاں زندگانی
یہ عقدہ کس کا الجھایا ہوا ہے

دلوں میں فاصلہ اتنا نہیں ہے
زمانہ درمیاں آیا ہوا ہے

بہانے لاکھ ہیں جینے کے باقیؔ
مگر دل ہے کہ گھبرایا ہوا ہے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button