سلام اُن حیدرِ کرار کے
فرزندِ صادق پر
سلام اُن پر
جنہوں نے کربلا کی بانجھ دھرتی کو
لہو دے کر ازل سے تا ابد زرخیزیاں بخشیں
سلام اُس خاک پر جس نے
حسین ابنِ علی (رضی اللہ ) کے پاؤں کو چوما
سلام اُن بیبیوں پر جن کے دامن پر
فرشتوں نے عبادت کی
سلامِ تشنگی معصوم اصغر پر
کہ جس نے کربلا کی حدتوں کو
آبِ کوثر سے بجھایا تھا
سلام اُن حضرتِ عباس پر جن نے
کٹے بازو تو مشکیزے کو دانتوں سے اُٹھا کر
پیاس کو تکریم بخشی تھی
سلامِ تشنگی پہنچے
فراتِ صبر کی بے چین لہروں کو
کناروں میں مقید ہوگئیں جو حکمِ ربی پر
کہ جن میں آج بھی سوکھے لبوں کی پیاس بہتی ہے
سلام اُن پر
ہماری آنکھ میں جن کا تصور بھی
نمی بن کر اُترتا ہے
سلام اُن پر
کہ جن کا نام لینے سے ہی روحوں میں
عقیدت کے گلابوں کی مہک سی جاگ اُٹھتی ہے
سلام اُن پر
سلام اُن پر
سلیم فگار








