آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

کرنل حبیب ظاہر کا غیاب

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

جب کوئی شخص اچانک لاپتہ ہوتا ہے، تو صرف اُس کی موجودگی ہی نہیں جاتی، بلکہ اس کے ساتھ جُڑے خواب، وعدے، تشخص اور اُس سے وابستہ سماجی رشتے بھی ایک ان دیکھی خلا میں گم ہو جاتے ہیں۔ مگر جب لاپتہ ہونے والا فرد ایک سابق فوجی افسر ہو، جس نے عمر بھر وطن کے لیے خدمات انجام دیں ہوں، تو وہ خلا صرف ذاتی یا خاندانی نہیں رہتا۔ وہ قومی وقار کے ماتھے پر ایک سوال بن کر ابھرتا ہے۔

ایسا ہی ایک سوال اپریل 2017 سے آج تک ہمارے اجتماعی ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل (ر) محمد حبیب ظاہر، جنہیں نیپال میں ایک ”جعلی انٹرویو“ کے بہانے سے بلا کر اغوا کر لیا گیا، اب کئی برسوں سے غائب ہیں۔ وہ ایک سلجھے ہوئے، تجربہ کار، محبِ وطن افسر تھے۔ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد جب انہوں نے عام زندگی کی طرف قدم بڑھایا، تو شاید وہ یہ نہ جانتے تھے کہ جس دنیا کو وہ محفوظ اور واضح سمجھ رہے ہیں، وہ اصل میں کتنی مبہم اور خطرناک ہو چکی ہے۔
انہیں نیپال کے شہر لمبینی میں ”Start Solutions“ نامی ایک کمپنی نے نوکری کی پیشکش کی۔ لنکڈ اِن پروفائل، ای میلز اور دیگر تمام ذرائع نہایت باقاعدہ اور پیشہ ور دکھائی دیتے تھے۔ وہ پاکستان سے روانہ ہوئے، کٹھمنڈو پہنچے، پھر بھیروا ائرپورٹ اور وہاں سے لمبینی۔ ہوٹل میں قیام بھی کیا، ملاقات بھی ہوئی۔ مگر اس کے بعد خاموشی نے اُن کے وجود کو نگل لیا۔ فون بند، کمپنی غائب، ویب سائٹ حذف، اور کوئی بھی ایسا در نہ بچا جس پر دستک دی جائے۔

ریاستِ پاکستان نے رسمی طور پر نیپالی حکومت، اقوامِ متحدہ، اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کیا۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“ پر شبہ ظاہر کیا گیا، جس کی حمایت بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس نے بھی کی۔ کئی مبصرین نے اسے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کا ممکنہ ”جوابی ردعمل“ قرار دیا۔ مگر ان تمام خدشات اور اشاروں کے باوجود، حقیقت کی تہہ میں جانے کے دروازے بند ہی رہے۔

یہ معاملہ کئی سطحوں پر ہماری اجتماعی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ریاستی ادارے، جن سے توقع تھی کہ وہ کسی بھی پاکستانی شہری کی حفاظت کے ضامن ہوں گے، وہ اس معاملے میں ایک رسمی روایتی بیانیہ سے آگے نہ بڑھ سکے۔ عالمی ادارے، جن کا کام انسانی حقوق کی پاسداری ہے، انہوں نے بھی خاموشی کو ترجیح دی۔

لیکن اس سے زیادہ افسوسناک پہلو عوامی ردِعمل ہے۔ ایک وقت تھا جب کوئی فوجی افسر زخمی ہوتا تو شہر کی فضا سوگوار ہو جاتی۔ اب ایک فوجی افسر کا لاپتہ ہونا صرف ایک ”خبر“ بن کر رہ گیا۔ ٹی وی چینلز پر وقتی تبصرے، سوشل میڈیا پر چند جذباتی پوسٹس، اور پھر ایک اجتماعی بھول۔ ہم بطور قوم ان واقعات سے کتنی جلدی کٹ جاتے ہیں، جیسے ہمیں اس المیے سے کوئی جذباتی نسبت ہی نہیں۔ کیا ہم اس درجے بے حسی کے عادی ہو چکے ہیں کہ ایک محبِ وطن شخص کی گمشدگی پر ہمارا اجتماعی ضمیر بھی ساکت رہے؟

یہ گمشدگی صرف کرنل حبیب کا جسمانی غیاب نہیں، بلکہ ہمارے شعور کی خاموشی، ہمارے احساس کی بے بسی، اور ہماری ریاستی مشینری کی غیر فعالیت کا استعارہ بھی ہے۔ ہم نے اس واقعے کو ایک ’فائل‘ کی صورت میں دفنا دیا۔ بغیر اس کے کہ ہم نے یہ پوچھا ہو کہ ایسا کیوں ہوا، اور کل کو ایسا کسی اور کے ساتھ کیوں نہ ہو گا؟

کرنل صاحب کے اہلِ خانہ آج بھی منتظر ہیں۔ ان کے بیٹے، ان کی اہلیہ، ان کے دوست، سب آج بھی اس امید پر ہیں کہ شاید کوئی خبر آئے، شاید ریاست بیدار ہو، شاید سفارت کاری میں کوئی جنبش ہو، شاید کوئی صحافی اس معاملے پر توجہ دے، شاید کوئی آواز اس خاموشی کو چیر دے۔

لیکن وقت گزر رہا ہے، اور ہر گزرنے والا دن ہمارے حافظے سے نہ صرف کرنل صاحب کا نام دھندلا رہا ہے بلکہ یہ بھی دکھا رہا ہے کہ ہم کتنی تیزی سے انسانوں کی بجائے اعداد و شمار کی قوم بن گئے ہیں۔

یہ تحریر اُن کے لیے ایک پکار ہے۔ اُن کے اہلِ خانہ کے لیے ایک تسلی، اور خود اپنے لیے ایک تازیانہ۔ کہ ہم نے ایک فرد کو نہیں کھویا، ہم نے اپنی حساسیت، اپنے اداروں پر اعتماد، اور اپنے اجتماعی شعور کی آنکھ کو کھو دیا ہے۔

اگر ہم واقعی زندہ قوم ہیں، تو ہمیں اس سوال کا پیچھا کرنا ہو گا: کرنل حبیب کہاں ہیں؟

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button