اردو شاعریاردو نظمپروین شاکر

کرنوں کے قدم

پروین شاکر کی ایک اردو نظم

کرنوں کے قدم

خوش پوش مسافروں کے آگے
ننّھا سا وہ کم لباس بچہ
کِس شانِ انا سے چل رہا تھا
سُورج کی تمازت کے با وصف
سائے کی تلاش تھی نہ اس کو
درکار تھیں نقرئی پناہیں
جیبوں پہ نگاہ تھی نہ رُخ پر
سکّوں سے وہ بے نیاز آنکھیں
کُچھ اور ہی ڈھونڈنے چلی تھیں
اُس کو تو مسافروں سے بڑھ کر
سایوں سے لگاؤں ہو گیا تھا
اپنے نئے کھیل میں مگن وہ
لوگوں کے بہت قریب جا کر
میلی ، بے رنگ اُنگلیوں سے
سایوں کو مزے سے گن رہا تھا
دلدل سے اُگا ہُوا وہ بچہ
خوشبو کا حساب کر رہا تھا
کُہرے میں پلا ہُوا وہ کیڑا
کرنوں کا شمار کر رہا تھا
کس نے اُسے گنتیاں سکھائیں
جس نے کبھی زندگی میں اپنی
اسکول کی شکل تک نہ دیکھی
اُستاد کا نام تک نہ جانا
سچ یہ ہے کہ سورجوں کو چاہے
بادل کا کفن بھی دے کے رکھیں
کب روشنیاں ہوئی ہیں زنجیر!
تنویر کا ہاتھ کِس نے تھاما!
کونوں کے قدم کہاں رُکے ہیں !

پروین شاکر

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button