اردو افسانے
افسانہ (یا مختصر افسانہ) قِصّہ کہانی کی وہ شکل ہے، جس کے لیے انگریزی میں Short Story کا نام استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں مختصر افسانہ مغرب کے اثرات کی دین ہے۔ نثری ادب میں اردو افسانے کو انگریزی ادب کے ذریعے متعارف کرایا گیا۔اگرچہ کہ اس کی عمر زیادہ طویل نہیں ہے مگر پھر بھی مختصر سے عرصے میں نثری ادب کی اس صنف نے دوسری اصناف کی طرح اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔
ویسےتو صنف افسانہ اردو ادب کے لیے بیسویں صدی میں ایک اہم اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس سے یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ اس سے پہلے قصے کہانیوں کا رواج نہیں تھا۔یہ روایت باقاعدہ طور پر نثری داستانوں کی شکل میں موجود تھی۔ان میں زیادہ تر مافوق الفطری عناصر کی بھرمار ہوتی تھی اور داستانوں کے پلاٹ بڑے وسیع اور پیچیدہ ہوتے تھے۔داستانوں کے زمانے میں چونکہ زیادہ مصروفیت نہیں تھی اور داستانوں کے علاوہ وقت گزاری کا کوئی ذریعہ نہ تھا چنانچہ اس زمانے میں اس طرح کے طویل قصے زیادہ پسند کیے جاتے تھے۔لیکن جیسے جیسے سائنس نے ترقی کی، انسان کی مصروفیات بڑھتی گئیں اور آہستہ آہستہ غیر فطری قصے اپنی دلچسپی کھونے لگے اور حقیقت پر مبنی قصے اور کہانیاں منظر عام پر آنے لگیں جنہیں ناول اور اس کے بعد مختصر افسانے کے روپ میں پیش کیا جانے لگا۔
افسانہ نگار کا انتخاب کریں
-

بڑے گھر کی بیٹی
افسانہ از منشی پریم چند
-

نمک کا داروغہ
افسانہ از منشی پریم چند
-

سوا سیر گینھو
افسانہ از منشی پریم چند
-

جوانی
عصمت چغتائی کا ایک افسانہ
-

آنکھیں
اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو
-

گھاس والی
افسانہ از منشی پریم چند
-

گل عباس
ایک افسانہ از غلام عباس
-

پشاور سے لاہور تک
اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو
-

بادشاہت کا خاتمہ
اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو
-

تین موٹی عورتیں
اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو
-

سمینٹ میں دفن آدمی
ایک افسانہ از ایم مبین
-

کتبہ
ایک افسانہ از غلام عباس
-

اوور کوٹ
غلام عباس کا ایک انعام یافتہ افسانہ
-

غلام عبّاس
غلام عبّاس کی سوانح حیات
-

افسانہ 1919 کی ایک بات
اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو
-

مس مالا
اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو
-

ذائقے جو روپوش ہو گئے
از قلم انتظار حسین
-

جواری
ایک افسانہ از غلام عباس
-

وٹا سٹا
ایک اردو افسانہ از سید محمد زاہد
-

منزل بے نشاں
ایک افسانہ از ڈاکٹر عشرت ناہید



















































