8 جون, 2024

    بجلی گرجی ،آندھی آئی

    غلام عباس ساغر کی ایک اردو غزل
    27 دسمبر, 2019

    اپنا سمجھیں ، نہ پرایا سمجھیں

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2025

    یہ تو لازم نہیں

    ذیشان احمد خستہ کی ایک اردو غزل
    22 اپریل, 2020

    بگڑتا زخم ہنر آشکارا کرنا پڑا

    ڈاکٹر کبیر اطہر کی ایک اردو غزل
    30 مئی, 2020

    پھر تیرے خواب ٹانک دیے ہیں پلک پلک

    ناہید ورک کی اردو غزل
    12 جنوری, 2026

    وقت سے پہلے ہوئی شام

    رومانہ رومی کی ایک اردو غزل
    22 مارچ, 2026

    ہماری چال الٹی پڑ گئی استاد

    راشد امام کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    منعقد کاش مجلس مل ہو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    24 مئی, 2020

    یہ تو سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ مر جائے گا

    ایوب خاور کی اردو غزل
    27 جون, 2020

    جور کیا کیا جفائیں کیا کیا ہیں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    24 مئی, 2020

    مسلسل زلزلے ہیں چشمِ نم میں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    5 جولائی, 2025

    یہی ہے دل کا تقاضا

    احمد ابصار کی ایک اردو غزل
    27 مئی, 2020

    چھوڑ کر جسم و جاں ، چلا جاؤں

    دلاور علی آزر کی اردو غزل
    27 اکتوبر, 2020

    ہوا جیسے کوئی بندِ قبائے نسترن کھولے

    شازیہ اکبر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button