فرزانہ نیناں
آپ کی پیدائش 16 دسمبر کے روز پاکستان کے شہر کراچی میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام محمداقبال میمن ہے۔ بی اے تک تعلیم سرسید کالج سے حاصل کی۔ طالب علمی کا دور کافی سرگرم رہا،ڈراما،تقریری مقابلے،ٹیبلو اور یونین میں شمولیت کے ساتھ نثر لکھنے کا بھی شغف رہا۔ پہلی نظم جنگ اخبار میں شائع ہوئی۔ سندھی کے مشہور شاعر سارنگ لطیفی سے قربت داری شاعری سے دلچسپی میں اضافہ کا باعث بنی۔
فرزانہ نیناں کی شاعری میں جابجا اچھوتی تشبیہات کا رنگ نمایاں ہے۔ فطرت سے لگاؤ، منظر نگاری اور موسموں سے مرعوب شاعرہ اپنی شاعری میں کہیں شوخ و چنچل نظر آتی ہیں تو کہیں گہرے دکھ کے طلسم کدے میں۔ فرزانہ کی شاعری میں چاندنی رات کا فسوں،اداس راتوں کی برف جیسی ٹھنڈک، برستی بوندوں کی خوشبو، شام کے گہرے سناٹے، پنچھیوں کی اونچی پروان، نینوں سے چھلکتے خواب، سوزودرد کی پیاس جیسے جذبات، استعارات کی تصویری شکل پوری ٓب وتاب کے ساتھ محسوس کی جاسکتی ہے جواردو شاعری سے شغف رکھنے والوں کا دل موہ لینے کا ہنر جانتی ہے
-

سہیلی خبر کچھ نہیں میں کہاں ہوں
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

خوبصورت جنتوں میں سانپ چھوڑے رات بھر
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ بنا ہوا
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

ان بادلوں میں روشن چہرہ ٹھہر گیا ہے
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

تخلیق کا عمل اسے سچی خوشی لگا
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

صبح کے روپ میں جب دیکھنے جاتی ہوں اسے
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

ہوا کے شور کو رکھنا اسیر جنگل میں
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

تتلیاں ہی تتلیاں ہیں تم جو میرے سات ہو
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

ہر سوال اب مرا شِکستہ ہے
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

دھوپ گر نہ صحرا کے، راز کہہ گئی ہوتی
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

بہت آسان تھا اس کی محبت کو دعا کرنا
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

دشمنِ جاں کوئی مہمان بناتی ہوں میں
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

خواہشیں ہوش کھوئے جاتی ہیں
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

رتجگے کرتی ہوئی پاگل ہوا کچھ ٹھہر جا
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

منزل کو رہگزر میں کبھی رکھ دیا کرو
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

شام کی گنگناہٹوں میں گم
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

ہے ذرا سا سفر ، گزارا کر
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

مرے قریب ہی گو زرد شال رکھی ہے
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
-

کوئی بھی نہ دیوار پر سے پکارے
فرزانہ نیناں کی اردو غزل
