ابنِ انشاءاردو نظمشعر و شاعری

عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے

ابن انشاء کی ایک اردو نظم

شبوں کو نیند آتی ہی نہیں ہے
طبیعت چین پاتی ہی نہیں ہے
بہت روئے اب آنسو ہیں گراں یاب
کہاں ڈوبا ہے جا کے دل کا مہتاب
ستارے صبح خنداں کے ستارے
بھلا ا تنی بھی جلدی کیا ہے پیارے
کبھی پوچھا بھی تو نے ۔۔۔کس کو چاہیں
لے پھرتے ہیں ویراں سی نگاہیں
ہماری جاں پہ کیوں ہیں صدمے بھاری
نفس کاسوز ، دل کی بے قراری
خبر بھی ہے ہمارا حال کیا ہے
عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے
حکایت ہے ابھی پچھلے دنوں کی
کوئی لڑکی تھی ننھی کا منی سی
گلے زیبا قبائے ، نو بہارے
سیہ آنچل میں اوشا کے ستارے
بہت صبحوں کی باتیں تھیں انیلی
بہت یادوں کی باتیں تھیا نیلی
کبھی سامان تھے دل کے توڑنے کے
کبھی پیمان تھے پھر سے جوڑنے کے
عجب تھا طنز کرنے کا بہانا
نہ تم انشا جی ہم کو بھول جانا
بہت خوش تھے کے خو ش رہنے کے دن تھے
بہر ساعت غزل کہنے کے دن تھے
زمانے نے نیا رخ یوں دیا
اسے ہم سے ہمیں اس سے چھڑایا
پلٹ کر بھی نہ دیکھا پھر کسی نے
اسی عالم میں گزرے دو مہینے
کگر ہم کیسی رو میں بہ چلے ہیں
نہ کہنے کی ہیں باتیں کہہ چلے ہیں
ستارے صبح روشن کے ستارے
تجھے کیا ہم اگر روتے ہیں پیارے
ہمارے غم ہمارے غم رہیں گے
ہم اپنا حال تجھ سے نہ کہیں گے
گزر بھی جا کہ یاں کھٹکا ہوا ہے
عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے
ابن انشاء

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button