اردو غزلیاتشعر و شاعریناہید ورک

سنتے تھے بیوفائیاں تیری

ناہید ورک کی اردو غزل

سنتے تھے بیوفائیاں تیری
ہر طرف آشنائیاں تیری
ضبط کی انتہا ہے اور وہ ہے
جس نے جھیلی جدائیاں تیری
تجھ سے یہ دل کلام کیا کرتا؟
یاد تھیں خود نمائیاں تیری
غم نہیں ہے اگر بچھڑنے کا
کیوں پھر آنکھیں بھر آئیاں تیری؟
دل یہ ناہید بھولتا ہی نہیں
لاکھ باتیں بھلائیاں تیری

ناہید ورک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button