سائٹ کا نقشہ
- لعل پر کب دل مرا مائل ہوا
- کوئی فقیر یہ اے کاشکے دعا کرتا
- بندھا رات آنسو کا کچھ تار سا
- حیراں ہے لحظہ لحظہ طرز عجب عجب کا
- سینکڑوں بیکسوں کا جان گیا
- ہنگام شرح غم جگر خامہ شق ہوا
- کل میں کہا وہ طور کا شعلہ کہاں گرا
- آتے ہی آتے تیرے یہ ناکام ہوچکا
- سنبل تمھارے گیسوئوں کے غم میں لٹ گیا
- سینے میں شوق میر کے سب درد ہو گیا
- کیا تو نمود کس کی کیسا کمال تیرا
- فرو آتا نہیں سر ناز سے اب کے امیروں کا
- ہوئیں رسوائیاں جس کے لیے چھوٹا دیار اپنا
- ربط دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا
