سائٹ کا نقشہ
- خط سے وہ زور صفاے حسن اب کم ہو گیا
- کیفی ہو کیوں تو ناز سے پھر گرم رہ ہوا
- مذکور میری سوختگی کا جو چل پڑا
- دل فرط اضطراب سے سیماب سا ہوا
- دیکھ آرسی کو یار ہوا محو ناز کا
- غم ابھی کیا محشر مشہور کا
- نظر میں طور رکھ اس کم نما کا
- وہ ترک مست کسو کی خبر نہیں رکھتا
- میں غش کیا جو خط لے ادھر نامہ بر چلا
- وہ شوخ ہم کو پائوں تلے ہے ملا کیا
- اس موج خیز دہر میں تو ہے حباب سا
- کب لطف زبانی کچھ اس غنچہ دہن کا تھا
- یہ روش ہے دلبروں کی نہ کسو سے ساز کرنا
- یک آن اس زمانے میں یہ دل نہ وا ہوا
