سائٹ کا نقشہ
- اس کام جان و دل سے جو کوئی جدا ہوا
- کل دل آزردہ گلستاں سے گذر ہم نے کیا
- اس قدر آنکھیں چھپاتا ہے
- جوں ابرقبلہ دل ہے نہایت ہی بھر رہا
- دل دفعتہ جنوں کا مہیا سا ہو گیا
- پھرتا ہے زندگی کے لیے آہ خوار کیا
- غنچہ ہی وہ دہان ہے گویا
- ان سختیوں میں کس کا میلان خواب پر تھا
- تیغ لے کر کیوں تو عاشق پر گیا
- جی رک گئے اے ہمدم دل خون ہو بھر آیا
- یار ہے میر کا مگر گل سا
- چمن میں جاکے جو میں گرم وصف یار ہوا
- ایک دل کو ہزار داغ لگا
- تیغ کی اپنی صفت لکھتے جو کل وہ آگیا
