سائٹ کا نقشہ
- عید آئندہ تک رہے گا گلا
- یہ چوٹ کھائی ایسی دل پر کہ جی گنوایا
- سمندر کا میں کیوں احساں سہوں گا
- رکھتا تھا ہاتھ میں سررشتہ بہت سینے کا
- عشق سے دل پہ تازہ داغ جلا
- اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب
- داغ ہوں جلتا ہے دل بے طور اب
- وہ جو کشش تھی اس کی طرف سے کہاں ہے اب
- شبنم سے کچھ نہیں ہے گل و یاسمن میں آب
- جیسا مزاج آگے تھا میرا سو کب ہے اب
- عشاق کے تئیں ہے عجز و نیاز واجب
- تابوت پر بھی میرے نہ آیا وہ بے نقاب
- جو کہو تم سو ہے بجا صاحب
- جو کہو تم سو ہے بجا صاحب
