سائٹ کا نقشہ
- جھوٹ ہر چند نہیں یار کی گفتار کے بیچ
- آتی ہے خون کی بو دوستی یار کے بیچ
- آنے کی اپنے کیا کہیں اس گلستاں کی طرح
- دور گردوں سے ہوئی کچھ اور میخانے کی طرح
- اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ
- رہیے بغیر تیرے اے رشک ماہ تا چند
- تجھ بن اے نوبہار کے مانند
- آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دعا یاد
- اسیر کر کے نہ لی تو نے تو خبر صیاد
- لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شاید
- بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد
- رفتار میں یہ شوخی رحم اے جواں زمیں پر
- کیا کیا نہ ہم نے کھینچے آزار تیری خاطر
- اے صبا گر شہر کے لوگوں میں ہو تیرا گذار
