سائٹ کا نقشہ
- آغشتہ خون دل سے سخن تھے زبان پر
- کیا کیا نہ لوگ کھیلتے جاتے ہیں جان پر
- مت آنکھ ہمیں دیکھ کے یوں مار دیا کر
- بے لطفیاں کرو ہو یہ تس پر غضب ہے اور
- آ ہم نشیں کسو کے مت عشق کی ہوس کر
- آئی ہے اس کے کوچے سے ہوکر صبا کچھ اور
- چمکی ہے جب سے برق سحر گلستاں کی اور
- نئے طور سیکھے نکالے ڈھب اور
- آخر دکھائی عشق نے چھاتی فگار کر
- جنوں میں اب کے کام آئی نہ کچھ تدبیر بھی آخر
- رہ جائوں چپ نہ کیونکے برا جی میں مان کر
- مجھ کو قفس میں سنبل و ریحاں کی کیا خبر
- اب تنگ ہوں بہت میں مت اور دشمنی کر
- اس شوخ سے سنا نہیں نام صبا ہنوز
