سائٹ کا نقشہ
- جس پہ اس موج سی شمشیر کا اک وار کیا
- شب رفتہ میں اس کے در پر گیا
- بے طاقتی میں تو تو اے میر مر رہے گا
- پندگو مشفق عبث میرا نصیحت گر ہوا
- ٹپکتی پلکوں سے رومال جس گھڑی سرکا
- حلقہ ہوئی وہ زلف کماں کو چھپا رکھا
- میں جوانی میں مے پرست رہا
- چمن بھی ترا عاشق زار تھا
- دل گیا مفت اور دکھ پایا
- چاک کر سینہ دل میں پھینک دیا
- اندوہ و غم کے جوش سے دل رک کے خوں ہوا
- منھ پر اس آفتاب کے ہے یہ نقاب کیا
- اے نکیلے یہ تھی کہاں کی ادا
- رہا میں تو عزت کا اعزاز کرتا
