سائٹ کا نقشہ
- طریق خوب ہے آپس میں آشنائی کا
- یہ رفتگی بھی ہوتی ہے جی ہی چلا گیا
- سوز دروں سے آخر بھسمنت دل کو پایا
- نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا
- روکش ہوا جو شب وہ بالاے بام نکلا
- کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا
- کجی اس کی جو میں جتانے لگا
- اللہ رے غرور و ناز تیرا
- آنسو مری آنکھوں میں ہر دم جو نہ آجاتا
- بالقوہ ٹک دکھایئے چشم پرآب کا
- خندئہ دنداں نما کرتا جو وہ کافر گیا
- اس بد زباں نے صرف سخن آہ کب کیا
- اب چھاتی کے جلنے نے کچھ طور بدل ڈالا
- طوفان میرے رونے سے آخر کو ہورہا
