سائٹ کا نقشہ
- ناروا کہیے ناسزا کہیے
- ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا
- جلوہ نہیں ہے نظم میں حسن قبول کا
- جو معتقد نہیں ہے علیؓ کے کمال کا
- لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا
- پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا
- دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم تر سا
- تیغ ستم سے اس کی مرا سر جدا ہوا
- رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیا
- جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا
- بہتوں کو آگے تھا یہی آزار عشق کا
- ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہا
- کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا
- رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگا
