سائٹ کا نقشہ
- اب دل ہے مقام بے کسی کا
- کچھ تو ڈوبے دل کو ابھارو
- بنتی ہے بری کبھی جو دل پر
- سبب کھلا یہ ہمیں اُن کے منہ چھپانے کا
- اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
- کچھ تو ڈوبے دل کو ابھارو
- زباں ہلاؤ تو ہو جائے فیصلہ دل کا
- دل کے نالوں سے جگر دکھنے لگ
- تم کو کیا ہر کسی سے ملنا تھا
- تمھارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
- ہماری آنکھوں نے بھی تماشا عجب عجب انتخاب دیکھا
- دل پہ کچھ کھل سکا نہ راز غم
- کیا ذوق ہے کہ شوق ہے سو مرتبہ دیکھوں
- خواب میں بھی نہ کسی شب وہ ستم گر آیا
