سائٹ کا نقشہ
- آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
- آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
- کارواں یا غبار کو دیکھا
- چشم نظارہ پہ کیا کوئی بھی الزام نہ تھا
- چمن میں شور بہت شوخی صبا کا تھا
- کیوں میں تیری دہائی دینے لگا
- دشت جنوں میں غم کا جرس بولنے لگا
- سیر مانند صبا کیجے گا
- ہر گھڑی فکر کہ اب کیا ہو گا
- وہ مقام دل و جاں کیا ہو گا
- ترے جہاں کے نظاروں کا ساتھ دے نہ سکا
- دل کا حریف مے کا پیالہ نہ ہو سکا
- ہر داغ ہے داغ زندگی کا
- ہم چھپائیں گے بھید کیا دل کا
