سائٹ کا نقشہ
- غم بنا دے نہ تماشا ہم کو
- حسرت ہے جو نکال لو غصہ اتار لو
- نگار دشت کی جانب کوئی قدم اب تو
- دل کی آس مٹائے کون
- خود کو لگتے ہیں اجنبی سے ہم
- لبوں کو کھول کر یوں رہ گئے ہم
- ہجوم رنج و غم میں کھو گئے ہم
- کیا دور جہاں سے ڈر گئے ہم
- وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم
- ماضی میں ہیں اب نہ حال میں ہم
- وہیں سمجھو ہماری داستاں ختم
- کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلط
- احساس زندگی کی کلی کھل گئی ہے پھر
- تبصرہ تھا مرے فسانے پر
