سائٹ کا نقشہ
- ہجوم رنج و الم میں صبر و قرار پر غور کر رہا ہوں
- اپنا قصہ سنا رہا ہوں میں
- تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں
- ہمہ تن عرض حال ہیں ہم لوگ
- کوئی سمجھے تو زمانے کا بھرم ہیں ہم لوگ
- رہتے ہیں تصور سے بھی اب دور کہیں لوگ
- پہچان سکے نہ تیرے ڈھب تک
- کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو
- کوئی نغمہ تو در سے پیدا ہو
- کیا تم سے گلہ کہ مہرباں ہو
- چیں بہ جبیں ہو
- دل کے مٹنے لگے نشاں دیکھو
- ان کا یا اپنا تماشا دیکھو
- صبح کا بھید ملا کیا ہم کو
