سائٹ کا نقشہ
- وقف رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں
- یعنی نگارِ صبح کے پاؤں پڑا ہوا
- پہلے آواز لگائی ہم نے
- زندگی حسن بام و در تو نہیں
- چھا کر دلوں پہ ان کی نظر مطمئن نہیں
- گل کے پردے میں ہے کیا معلوم نہیں
- چشمک ہم سفراں یاد نہیں
- یہ گل نہیں یہ شگوفے نہیں یہ خار نہیں
- دل کسی صورت ٹھہر پاتا نہیں
- زندگی اتنی گراں بار نہیں
- میکشوں میں وہ اضطراب نہیں
- اخلاص کو مجبور فغاں دیکھ رہے ہیں
- ہم کس کے جہاں میں بس رہے ہیں
- اشکوں میں خیال ڈھل رہے ہیں
