سائٹ کا نقشہ
- منزل کی خبر نہ رہگزر کی
- ہر آہ پر نظر ہے غمِ صبح و شام کی
- اب نہیں تاب زخم کھانے کی
- کیا ملے گی ہمیں خبر اپنی
- جب سایہ آدمی کا پڑا سرکا آدمی
- پھول بکھرے ہیں خاک پر ساقی
- رنگ محفل ہے ادا سے تیری
- زنجیر ہوس دل کو رہائی نہیں دیتی
- بے کلی بے سبب نہیں ہوتی
- کوئی ان کی خبر نہیں آتی
- ان کے لبوں پر آ کے مری بات رہ گئی
- اٹھ کر مری نظر ترے رُخ پہ ٹھہر گئی
- کشتی نقش وہ چھوڑ گئی
- آئی نہ پھر نظر کہیں جانے کدھر گئی
