سائٹ کا نقشہ
- آ گیا ہر رنگ اپنا سامنے
- نذر دنیا ہوئے ارمان ہمارے کتنے
- قطرے کی آرزو سے گہرا آئنہ بنے
- کس توقع جئیں ہم دیوانے
- رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے
- دل کا ہر زخم سی لیا ہم نے
- سفر گل کا پتا تھا پہلے
- نہ اپنے دل کے نہ اپنی زباں کے ساتھ چلے
- الٹی بساط میکدہ، جام ہوس چلے
- غم اور خوشی کے راستے آ کر جہاں ملے
- نہ مے بدلی نہ مے کے جام بدلے
- جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے
- بھٹک نہ جائیں رہ نو نکالنے والے
- ڈر کے حالات سے دامن کو بچانے والے
