سائٹ کا نقشہ
- اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں
- تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائے
- صراحی کا بھرم کھلتا نہ میری تشنگی ہوتی
- حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیں
- ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے
- عادتاً بے وفا ہے ,جانے دو
- اس زمیں آفتاب سے باہر
- مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں
- دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلے
- غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں
- جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہے
- دل دیوانہ عرض حال پر
- بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیا
- طلب کی آگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے
