سائٹ کا نقشہ
- تباہی کے بادل ہیں لہرانے والے
- اعتبار نظر کریں کیسے
- خار چن لے گا بہار ناز سے
- خون اخلاص کی بو آتی ہے پیمانے سے
- بوئے خوں آتی ہے پیمانے سے
- اٹھا نقاب جب رُخ صبح بہار سے
- روٹھ گیا دل سب سے
- ظاہر تھا وہ غم تری ’’نہیں‘‘ سے
- ہم تو دنیا سے بدگماں ٹھہرے
- اردوگرد دیواریں اور درمیاں چہرے
- تو عرض تمنا کو بھی جھگڑا کہہ دے
- بے نشاں رہتے بے نشاں ہوتے
- سو گئے دل کا ماجرا سنتے
- ہم تیری محبت سے گزرنے نہیں پاتے
