سائٹ کا نقشہ
- تیرے در تک نہیں جانے پاتے
- تار دل کے ٹوٹ کر چپ ہو گئے
- بیکلی کو قرار مان گئے
- ہم تری بزم سے بازار میں جب لائے گئے
- رک گئی برسات، ساغر تھم گئے
- آپ کب مائلِ کرم نہ ہوئے
- مرحلے زیست کے آسان ہوئے
- وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے
- موج ساحل سے جب جدا ہو جائے
- ایسے دل پر بھی کوئی کیا جائے
- سوز دل، زخم جگر لے آئے
- کچھ اس طرح وہ مری زندگی کے پاس آئے
- ہم کہیں آئنہ لے کر آئے
- جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے
