سائٹ کا نقشہ
- کب تک رہیں گے پہلو لگائے زمیں سے ہم
- مدعی مجھ کو کھڑے صاف برا کہتے ہیں
- کیا کیا جہاں اثر تھا سو اب واں عیاں نہیں
- نہ نکلا دوسرا ویسا جہاں میں
- نہیں تبخال لعل دلربا میں
- مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں
- کن نے لپٹے بال دکھلائے ترے مانی کے تیں
- جانا ادھر سے میر ہے ویسا ادھر کے تیں
- کیا کہوں اول بخود تو دیر میں آتا ہوں میں
- مدت ہوئی کہ بیچ میں پیغام بھی نہیں
- دم بہ دم اس ڈھب سے رونا دیر کر آیا ہمیں
- اشک کے جوش سے ہوں شام و سحر پانی میں
- جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں
- رکھا کر اشک افشاں چشم فرصت غیر فرصت میں
