سائٹ کا نقشہ
- لذت سے درد کی جو کوئی آشنا نہیں
- کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں
- کیا کہیں پایا نہیں جاتا ہے کچھ تم کیا ہو میاں
- معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں
- اتنا کہا نہ ہم سے تم نے کبھو کہ آئو
- نہ مائل آرسی کا رہ سراپا درد ہو گا تو
- سب حال سے بے خبر ہیں یاں تو
- ملتفت ہوتا نہیں ہے گاہ تو
- اب اسیری سے بچیں تو دیکھیں گے گلشن کبھو
- گل برگ سے ہیں نازک خوبی پا تو دیکھو
- بدزباں ہو جیسے خوش اسلوب ہو
- منعقد کاش مجلس مل ہو
- نہ میرے باعث شور و فغاں ہو
- برسوں میں کبھو ایدھر تم ناز سے آتے ہو
