سائٹ کا نقشہ
- آہ روکوں جانے والے کس طرح گھر کے ترے
- مت سہل سمجھو ایسے ہیں ہم کیا ورے دھرے
- بو کیے کمھلائے جاتے ہو نزاکت ہائے رے
- وہی شورش موئے پر بھی ہے اب تک ساتھ یاں میرے
- بہار آئی ہے غنچے گل کے نکلے ہیں گلابی سے
- کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوری بتاں سے
- کرتا ہے کب سلوک وہ اہل نیاز سے
- تابوت مرا دیر اٹھا اس کی گلی سے
- کیا خور ہو طرف یار کے روشن گہری سے
- برسوں ہوئے گئے ہوئے اس مہ کو بام سے
- وہ کہاں دھوم جو دیکھی گئی چشم تر سے
- مرا دل پیر و مرشد ہے مجھے ہے اعتقاد اس سے
- برا کیا مانیے اب چھیڑ سے یا اس کی گالی سے
- کھینچے جہاں تو تیغ جلادت کے واسطے
