سائٹ کا نقشہ
- یا بادئہ گلگوں کی خاطر سے ہوس جاوے
- درونے کو کوئی آہوں سے یوں کب تک ہوا دیوے
- اس شوخ ستمگر کو کیا کوئی بھلا چاہے
- دوری میں اس کی گور کنارے ہم آرہے
- یک عمر دیدہ ہاے ستم دیدہ تر رہے
- یاں ہم براے بیت
- ایک سمیں تم ہم فقرا سے اکثر صحبت رکھتے تھے
- مجنوں و کوہکن کو آزار ایسے ہی تھے
- اب ہم فقیر جی سے دل کو اٹھا کے بیٹھے
- ہے جنبش لب مشکل جب آن کے وہ بیٹھے
- اب سمجھ آئی مرتبہ سمجھے
- اب اپنے قد راست کو خم دیکھتے ہیں ہائے
- ماں تیری ممتا
- موسیقی کی حرمت
