سائٹ کا نقشہ
- ٹک ٹھہرنے دے تجھے شوخی تو کچھ ٹھہرایئے
- پر نہیں جو اڑ کے اس در جایئے
- ان دلبروں کو دیکھ لیا بے وفا ہیں یے
- شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے
- کبھو میر اس طرف آکر جو چھاتی کوٹ جاتا ہے
- چمن کو یاد کر مرغ قفس فریاد کرتا ہے
- جب نسیم سحر ادھر جا ہے
- کچھ بات ہے کہ گل ترے رنگیں دہاں سا ہے
- طپش سے رات کی جوں توں کے جی سنبھالا ہے
- چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے
- دل بیتاب آفت ہے بلا ہے
- شور میرے جنوں کا جس جا ہے
- کئی برسوں جگر کا ہی لہو اپنا پیا ہے
- کس غم میں مجھ کو یارب یہ مبتلا کیا ہے
