سائٹ کا نقشہ
- دیوانگی میں گاہ ہنسے گاہ رو چکے
- بے خودی جو یہ ہے تو ہم آپ میں اب آچکے
- خوبی کی اپنی جنت کیسی ہی ڈینگیں ہانکے
- دل خوں ہوا ہمارا ٹکڑے ہوئے جگر کے
- کتنے روزوں سے نہ سونے کے ہیں نے کھانے کے
- اس باغ بے ثبات میں کیا دل صبا لگے
- غیر کو دیکھے ہے گرمی سے نہ کچھ لاگ لگے
- کب تلک احوال یہ جب کوئی تیرا نام لے
- سختیاں کھینچیں سو کھینچیں پھر بھی جو اٹھ کر چلے
- یا پہلے وے نگاہیں جن سے کہ چاہ نکلے
- جیسے اندوہ محرم عشق کب تک دل ملے
- بے مہر و وفا ہے وہ کیا رسم وفا جانے
- الٰہی کہاں منھ چھپایا ہے تو نے
- ویسا ہے یہ جو یوسف شب تیرے ہوتے آوے
