سائٹ کا نقشہ
- م نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھا
- جو زندگی کے ہر ایک دھارے میں جاگتا ہے
- انا کا نشہ خودی کا خمار ٹوٹتا ہے
- لہو میں ڈوبا ہوا پیرہن چمکتا ہے
- مری زمیں ترے افلاک سے زیادہ ہے
- علم بدست کہیں آئنہ بکف ہوں میں
- عجیب دکھ ہے لبوں پر گلا کوئی بھی نہ تھا
- لرزتے ٹوٹتے گرتے ہوئے جہاں سے نکل
- جاگنا تھا ہم کو سو بیدار ہوتے رہ گئے
- گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے
- ہم نہ کہتے تھے رہے گا ہم میں کیا یاں سے گئے
- دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے
- انکھڑیوں کو اس کی خاطر خواہ کیونکر دیکھیے
- گرداب وار یار ترے صدقے جایئے
