سائٹ کا نقشہ
- باریک وہ کمر ہے ایسی کہ بال کیا ہے
- دل مرا مضطرب نہایت ہے
- گرمی سے میری ابر کا ہنگامہ سرد ہے
- گرمی سے میری ابر کا ہنگامہ سرد ہے
- جانے میں قتل گہ سے ترا اختیار ہے
- جنوں کا عبث میرے مذکور ہے
- زلف ہی درہم نہیں ابرو بھی پرخم اور ہے
- رشتہ کیا ٹھہرے گا یہ جیسے کہ مو نازک ہے
- مستی میں جا و بے جا مدنظر کہاں ہے
- ہم مست ہو بھی دیکھا آخر مزہ نہیں ہے
- کیا کہیے کلی سا وہ دہن ہے
- کیا تن نازک ہے جاں کو بھی حسد جس تن پہ ہے
- یہ رات ہجر کی یاں تک تو دکھ دکھاتی ہے
- نہ گلشن میں چمن پر ان نے بلبل تجھ کو جا دی ہے
