سائٹ کا نقشہ
- بود نقش و نگار سا ہے کچھ
- آوے کہنے میں رہا ہو غم سے گر احوال کچھ
- ہم سے دیکھا کہ محبت نے ادا کیا کیا کی
- کچھ کرو فکر مجھ دوانے کی
- میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
- کی سیر ہم نے سینۂ یکسر فگار کی
- ٹپہ بازی سے چرخ گرداں کی
- رکھا گنہ وفا کا تقصیر کیا نکالی
- جی رشک سے گئے جو ادھر کو صبا چلی
- آج کچھ بے حجاب ہے وہ بھی
- یار بن تلخ زندگانی تھی
- وہ رابطہ نہیں وہ محبت نہیں رہی
- عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی
- قوت کو پیرانہ سر دلی میں حیرانی ہوئی
