اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

کس غم میں مجھ کو یارب یہ مبتلا کیا ہے

میر تقی میر کی ایک غزل

کس غم میں مجھ کو یارب یہ مبتلا کیا ہے
دل ساری رات جیسے کوئی ملا کیا ہے

ان چار دن سے ہوں میں افسردہ کچھ وگرنہ
پھوڑا سا دل بغل میں برسوں جلا کیا ہے

اس گل کی اور اپنا تب منھ کیا ہے میں نے
جب آشنا لبوں سے صلِّ علیٰ کیا ہے

دل داغ کب نہ دیکھا جی بار کب نہ پایا
کیا کیا نہال خواہش پھولا پھلا کیا ہے

تڑپا ہے ایسا ایسا جو غش رہا ہے مجھ کو
دل اک بغل میں جی کا دشمن پلا کیا ہے

کیا خاک میں ہمیں کو ان نے نیا ملایا
ٹیڑھی ہی چال گردوں اکثر چلا کیا ہے

چلتا نہیں ہے دل پر کچھ اس کے بس وگرنہ
عرش آہ عاجزاں سے اکثر ہلا کیا ہے

ہم گو نہ ہوں جہاں میں آخر جہاں تو ہو گا
تونے بدی تو کی ہے ظالم بھلا کیا ہے

ہے منھ پہ میر کے کیا گرد ملال تازہ
یہ خاک میں ہمیشہ یوں ہی رلا کیا ہے

میر تقی میر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button