خواب کی رات سے نکل آئی
اپنے جذبات سے نکل آئی
وہ ملاقات جو تصور تھی
اس ملاقات سے نکل آئی
میرے بس سے نکل گئے حالات
میں بھی حالات سے نکل آئی
صبح کا یوں کرم ہوا مجھ پر
شب کی ظلمات سے نکل آئی
کوئی تھا جو دعا میں مانگتا تھا
پھر میں آیات سے نکل آئی
مجھ کو نیکی کا یہ ملا تھا صلہ
سارے صدمات سے نکل آئی
درجنوں میں کیا مجھے بھی درج
اس کے درجات سے نکل آئی
جن خیالوں میں قید تھی اب تک
ان خیالات سے نکل آئی
سپنا مولچندانی








