اردو غزلیاتحسن عباس رضاشعر و شاعری

ہم پریوں کے چاہنے والے خواب میں دیکھیں پریاں

ایک اردو غزل از حسن عباس رضا

ہم پریوں کے چاہنے والے خواب میں دیکھیں پریاں

دور سے روپ کا صدقہ بانٹیں ہاتھ نہ آئیں پریاں

راہ میں حائل قاف پہاڑ اور ہاتھ چراغ سے خالی

کیونکر جنوں کے چنگل سے ہم چھڑوائیں پریاں

آشاؤں کی سوہنی سحری سیج سجائے رکھوں

جانے کون گھڑی میرے گھر میں آن براجیں پریاں

سارے شہر کو چاندنی کی خیرات اس روز میں بانٹوں

جس دن خواہش کے آنگن میں چھم سے اتریں پریاں

کچے گھروں سے آس حویلی جانے کی خواہش میں

پہروں آئینے کے سامنے بیٹھ کے سنوریں پریاں

پریوں کی توصیف میں ایسے شعر رضاؔ میں لکھوں

جن کو سن کر اڑتی آئیں جھومیں ناچیں پریاں

حسن عباس رضا

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button